ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / ’جے پورساہتیہ سمیلن ‘میں تسلیمہ نسرین خفیہ طورپرمدعو،یونیفارم سول کوڈکاراگ الاپا

’جے پورساہتیہ سمیلن ‘میں تسلیمہ نسرین خفیہ طورپرمدعو،یونیفارم سول کوڈکاراگ الاپا

Tue, 24 Jan 2017 11:44:31    S.O. News Service

جے پور،23جنوری(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا)مقبول ادب کانفرنس جے پور لٹریری فیسٹیول میں پیر کو متنازعہ بنگلہ مصنفہ تسلیمہ نسرین پہنچی۔پروگرام میں اس کی شرکت کو لے کر پہلے سے کسی کو معلومات نہیں دی گئی تھی۔کانفرنس میں تسلیمہ کے آنے کو پوری طرح خفیہ رکھا گیا تھا۔ایسے قیاس لگائے جارہے ہیں کہ منتظمین کو ڈر تھا کہ تسلیمہ کی مخالفت کی جائے گی اس وجہ سے اس کے بارے میں کسی کو مطلع نہیں کیا گیا۔تسلیمہ یہاں’’ Exile‘‘(جلاوطن)سیشن میں اپنی بات رکھ رہی تھیں لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ اس فیسٹیول کی ویب سائٹ پر نہ تواس سیشن کا ذکر ہے اور نہ ہی اسپیکروں کی لسٹ میں تسلیمہ کا نام ہے۔یکساں سول کوڈ پر اپنی رائے رکھتے ہوئے تسلیمہ نے کہا کہ مسلمان نہیں چاہتے کہ وہ اس کا حصہ بنیں لیکن خواتین کے حقوق کیلئے اس کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔اسلامی بنیادپرستی پر بات کرتے ہوئے تسلیمہ نے کہا کہ جب بھی میں اسلام مذہب پر تنقید کرتی ہوں تو اسلامی بنیاد پرست مجھے مارنے کے لیے دوڑتے ہیں، یہ سب دوسرے مذہب میں نہیں ہوتا،اسلام کا روادار ہونا ضروری ہے۔ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ ہندو بنیاد پرستی اور طرح کی بنیاد پرستی کے بھی خلاف ہیں۔عدم برداشت کے معاملے پر تسلیمہ نے کہا کہ ہندوستان میں وہ ہمیشہ محفوظ محسوس نہیں کرتی لیکن یہاں حالات اتنے بھی خراب نہیں ہیں کہ ملک چھوڑنا پڑ جائے۔بنگلہ دیش میں تو سیکولر مصنفین کو موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے،ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ وہ قوم پرستی پر یقین نہیں رکھتی اور ان کے لئے پوری دنیا ایک ہے۔ملک سے نکالے کے معاملے پر بات چیت کرتے ہوئے تسلیمہ نے کہا کہ اگر میرا بس چلتا تو میں بالکل بنگلہ دیش میں رہنا چاہتی لیکن اس کے بعد ہندوستان ہی وہ ملک جہاں میں گھر جیسا محسوس کرتی ہوں۔انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ جب انہیں حال ہی میں ہندوستان چھوڑنے پر مجبور کیا گیا تب انہیں اتنا ہی دکھ ہوا جتنا انہیں2008میں ہندوستان چھوڑنے پر ہوا تھا۔اس سے پہلے اتوار کو جلاوطن بنگلہ دیشی مصنفہ تسلیمہ نسرین نے نئی دہلی میں اپنے نامعلوم مسکن سے میڈیا بات چیت کی تھی۔انہوں نے کہا تھا کہ سال 2011میں ممتا بنرجی کے وزیراعلیٰ بننے کے بعد انہیں مغربی بنگال میں اپنی واپسی کے لئے حالات سدھرنے کی امیدتھی لیکن انہیں لگتا ہے کہ ترنمول کانگریس کی سربراہ اس معاملے میں بائیں محاذ کی حکومت سے زیادہ سخت ہیں۔


Share: